Tuesday, December 22, 2015

سلمان گرین شرٹ زیب تن کرتے ہی ’’کپتان‘‘ بن گئے


پاکستان اسٹارزکوقطرپرفتح نہ دلاسکے، آصف، سعیداجمل ودیگربھی میچ میں شریک ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
دوحا:  فکسنگ میں سزا یافتہ کھلاڑیوں نے فاسٹ ٹریک پر ٹیم کی جانب واپسی کا سفر جاری رکھا ہوا ہے، سلمان بٹ بھی نمائشی مگر اہم مقابلے میں گرین شرٹ زیب تن کرتے ہی ’’کپتان‘‘ بن گئے، وہ اپنی زیر قیادت پاکستان اسٹارز کو قطرسے میچ میں فتح نہ دلاسکے، کئی تجربہ کار پاکستانی کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود 10 رنز سے شکست مقدر بن گئی۔
تفصیلات کے مطابق  برس قبل انگلینڈکے ہوم آف کرکٹ لارڈز پر چند لاکھ روپوں کی خاطر ملک و قوم کو رسوا کرنے والے سزا یافتہ کرکٹرز کی فاسٹ ٹریک پر ٹیم میں واپسی کا سفر جاری ہے، فاسٹ بولر عامر تو ٹیم سلیکشن کے تقریباً قریب پہنچ چکے جب کہ سلمان بٹ بھی خاموشی سے مسافت طے کرنے میں مصروف ہیں۔ دوحا کے ایشین ٹائون کرکٹ اسٹیڈیم میں قطر کے قومی دن کی مناسبت سے ایک نمائشی میچ کھیلا گیا ۔
جس میں قطر اسٹارز کے خلاف پاکستان اسٹارز کی قیادت سلمان بٹ نے کی، مگر کئی اسٹار پلیئرز کی موجودگی کے باوجود ان کی ٹیم 10 رنز سے ہار گئی، اس ٹیم میں فکسنگ میں سزا یافتہ ایک اورپلیئر محمد آصف کے ہمراہ کامران اکمل، عدنان اکمل، فواد عالم، اعزاز چیمہ، توفیق عمر، سعیداجمل، رانا نوید، عمران فرحت اور احسان عادل شامل تھے۔
قطر کا اسکواڈ بھی چند پاکستانی کھلاڑیوں سے سجا ہوا تھا، اس میں شرجیل خان، سعد نسیم اور ناصر جمشید وغیرہ موجود تھے۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے میزبان سائیڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 147 رنز بنائے، جواب میں پاکستانی ٹیم 7 وکٹ پر 135 رنز ہی بنا پائی۔ اس میچ کو دیکھنے کیلیے تارکین وطن کی بڑی تعداد نے اسٹیڈیم کا رخ کیا، مجموعی طور پر17 ہزار تماشائی اسٹیڈیم میں موجود رہے۔

عرق گلاب سے حسن کے نکھاراورجلد کے علاج کے چند نسخے


عرق گلاب اپنی محسور کن خوشبو کے باعث انسانی موڈ کو خوشگوار بنادیتا ہے، فوٹو:فائل
ایشیائی معاشروں می گلاب کے پھولوں کا عرق کئی گھریلو نسخوں میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے بالخصوص عرق گلاب چہرے کی دلکشی اور رنگ کو نکھارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی عرق گلاب اپنے اندر کئی اور کرشماتی خوبیاں رکھتا ہے۔
موڈ خوشگوار بہتر بناتا ہے: عرق گلاب کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ اپنی محسور کن خوشبو کے باعث انسانی موڈ کو خوشگوار بنادیتا ہے اور چڑچڑا پن ختم کر کے جذباتی سکون دیتا ہے اور انسان خود کو پرسکون محسوس کرتا ہے۔
جلد کو ہائیڈریٹ کرتا ہے: عرق گلاب جلد کو ہائیڈریٹ، موئسچرائز اور تازگی دے کر نکھار پیدا کرتا ہے۔
بالوں کے لیے مفید: عرق گلاب بالوں کی خشکی اور گرنے کو ختم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے اس لیے عرق گلاب قدرتی کنڈیشنر کا کام کرتے ہوئے بالوں کو بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
جلدی بیماریوں کا علاج: عرق گلاب جلد پر ہوجانے والی جلن اور خارش کو ختم کرتا ہے، داغوں اور جلد کی کئی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ عرق گلاب جلد کے مساموں میں پھنس جانے والی مٹی اور چکناہٹ کو بھی ختم کرتا ہے اس کی اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات کی وجہ سے جلد کے خلیوں کو مضبوط کرکے اس کے ٹشوز کو دوبارہ سے بناتا ہے اور جلد پر ہونے والی زخموں کا بھی علاج کرتا ہے۔
پرسکون نیند دیتا ہے: چند قطرے اپنے تکیے پر چھڑکیں یہ آپ کو ایک اچھی اور میٹھی نیند دے گا۔

وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد ناشپاتی کو خوراک میں شامل کریں، ماہرین


ناشپاتی میں کیلوریز بہت کم اور فائبر کی مقدار 24 فیصد کے برابر ہوتی ہے جو کئی امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔
نیویارک: ناشپاتی ایک عام دستیاب اور سستا پھل ہے اور اگر آپ وزن گھٹانا چاہتے ہیں تو ناشپاتی کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔
لیوزیانہ اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین 2001 سے 2010 کے درمیان لوگوں کے کھانے کی عادات اور ان کی قلبی اور ذہنی صحت کا مطالعہ کیا اس مطالعے سے حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ جن افراد نے ناشپاتی کھانے کو معمول بناکر رکھا ان کی 35 فیصد تعداد موٹاپے سے دور رہی۔
تحقیقی رپورٹ کے مرکزی مصنف کے مطابق ناشپاتی اور وزن کم کرنے کا تعلق بہت حیرت انگیز ہے کیونکہ فائبر سے کیلوریز کم ہوتی ہے اور ناشپاتی فوری بھوک مٹاتی ہے، ناشپاتی میں پوٹاشیم اور وٹامن سی کی حیرت انگیز مقدار ہوتی ہے اور ایک ناشپاتی میں 100 کیلوریز ہوتی ہے جو موٹاپے کی وجہ نہیں بنتی اوراس میں 24 فیصد فائبر (ریشہ) ہوتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ناشپاتی میں موجود کئی اجزا انسان کو کئی امراض کو دور رکھتے ہیں اسی لیے ہفتے میں 5 مرتبہ ناشپاتی کا استعمال جاری رکھا جائے جب کہ ناشپاتی کو سیب اور دہی کے ساتھ کھانے سے بھی خاطر خواہ نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔

ڈراؤنی فلمیں دیکھنے سے خون گاڑھا ہوکر کئی مسائل پیدا کرسکتا ہے، ماہرین



خون گاڑھا ہونے کا عمل کچھ دیر تک رہتا ہے لیکن مسلسل ہارر فلمیں دیکھنے سے صحت پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں،طبی ماہرین فوٹو:فائل
لائیڈن: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہارر (ڈراؤنی) فلمیں دیکھنا آپ کے لیے بہت نقصاندہ ہوسکتا ہے وجہ یہ ہےکہ ڈراؤنی فلمیں دیکھنے سے خون میں فیکٹر 8 پروٹین کی مقدار بڑھنے لگتی ہے جس سے خون گاڑھا ہوسکتا ہے اور کئی امراض کا سبب بن سکتا ہے۔
ایک عرصے سے ڈاکٹر یہ کہتے رہے ہیں کہ مسلسل خوف خون کو گاڑھا کردیتا ہے لیکن اب اس کی وجوہات تلاش کرلی گئی ہیں، ہالینڈ کی لائیڈن یونیورسٹی نے اس کے لیے 24 تندرست لوگوں کا جائزہ لیا جن کی عمر زیادہ سے زیادہ 30 برس تھی۔ ان میں سے 14 کو پہلے ایک ڈراؤنی فلم ( دکھائی گئی اور پھر ایک ڈاکیومینٹری جب کہ باقی 10 افراد کو اس کی الٹی ترتیب میں دونوں فلمیں دکھائی گئیں۔
دونوں گروپ کو ایک ہفتے کے وقفے سے یہ فلمیں ایک آرام دہ ماحول میں دکھائی گئیں اور اس کے بعد ان کے خون کے نمونے لیے گئے اور فلم میں ان کے خوفزدہ ہونے کو 1 سے 10 نمبر دینے کو کہا گیا جسے ایک سوالنامے میں درج کرنا تھا۔ اس میں ڈراؤنی فلم دیکھنے والوں 57 فیصد افراد کے خون میں فیکٹر 8 کی سطح بلند ہوگئی اور جیسے ہی انہیں دستاویزی فلم دکھائی گئی 86 فیصد کے خون میں فیکٹر 8 کم ہوگیا۔
اس بنیاد پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بہت ذیادہ ڈراؤنی فلمیں دیکھنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ان کے مضر جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے چند طریقے



بچے سے غلطی ہونے دیں اور اس سے اسے سیکھنے کا موقع بھی دیں بلکہ اپنی غلطیوں کو بچوں کے ساتھ شیئر کریں، ماہرین، فوٹو: فائل
نیویارک: بچے کتنے ہی ذہین کیوں نہ ہوں لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ان میں اعتماد میں کمی ہوتی ہے اور وہ اپنی بات کو درست طور پر نہیں بیان کرسکتے اوران کے اندر چھپی ہوئی صلاحییتں باہر نہیں آسکتیں لیکن ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے میں اسکول کے علاوہ والدین کا بھی ہاتھ ہوتا ہے اس لیے ان کی بھر پور توجہ بچے میں خود اعمتادی پیدا کر کے انہیں کامیاب زندگی کی سیڑھی پر قدم رکھنے میں رہنمائی کر سکتی ہے۔
والدین مثال بنیں: یونیورسٹی آف واشنگٹن کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بچے کے اندر خود سکیھنے کا عمل 5 سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے اور اس عمل کو مضبوط بنانے میں خود والدین کا ہاتھ بڑا اہم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کو جب والدین پر اعتماد نظر آتا ہےتو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ والدین سے سیکھتا ہے۔
بچے کو منفرد بنانے والی صلاحیت کو اجاگر کرنا: سیلف اسٹیم کے ماہرین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگر والدین یہ دیکھیں کہ ان کے بچے میں کوئی منفرد صلاحیت موجود ہے تو اس کی کیمونیکیشن کے اسٹائل کوسامنے رکھ کر محتاط انداز سے الفاظ اور انداز کا انتخاب کرتے ہوئے بچے میں اعتماد پیدا کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں اس کی ضروریات کو پورا کریں۔
بچے کی حوصلہ افزائی کریں: ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی خود داری اور اعتماد کو بڑھانے میں والدین کی حوصلہ افزائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے تاہم حد سے زیادہ تعریف یا پھر بالکل ہی تعریف نہ کرنا بچوں میں غیر ضروری توقعات، عدم تحفظ اور خوش پسندی پیدا کردیتا ہے۔ اوہائیو یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کو ابتدائی عمر میں ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں بعد میں ان میں خود نمائی کی عادت پیدا ہوجاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کی محنت، توجہ اور کسی انعام کے حصول پر ضرور حوصلہ افزائی کی جائے لیکن اگر بچے میں کوئی صلاحیت نہیں ہے اور آپ اس کے باور کرائیں کہ وہ ان میں موجود ہے تو یہ تعریف منفی نتیجہ دے گی، اس لیے ضروری ہے اگر بچے میں کوئی صلاحیت نہیں یا پھر وہ کوئی کام اچھا نہیں کرپاتا تو اس کی حوصلہ افزائی کریں لیکن اسے مزید بہتر کرنے کا گر بھی سکھائیں۔
مشکلات کو مواقع پیدا کرنے کا فن سکھائیں: ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو چیزوں کا صرف مثبت پہلو ہی نہ دکھائیں بلکہ اسے منفی تجربات سے لڑنا بھی سکھائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے کسی مشکل کا سامنے کریں تو انہیں سکھائیں کہ اس مشکل کا سامنا کرتے ہوئے آگے کی طرف کیسے بڑھنا ہے۔
ناکامی کا سامنا کرنے دیں: والدین کوشش کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے کام آسان کردیں جس سے بچہ ناکامی سے کامیابی کی جانب مڑنے کا عمل نہیں سیکھ پاتا، اس لیے بچے سے غلطی ہونے دیں اور اس سے اسے سیکھنے کا موقع بھی دیں بلکہ اپنی غلطیوں کو بچوں کے ساتھ شیئر کریں۔
ٹیم ممبر بننا سکھائیں: بچے کے اندر خود داری اور خود اعتمادی پیدا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے سکھائیں کہ ہر صورت حال میں ایک ٹیم ممبر کی طرح کام کرے، اگر آپ کا بچہ کسی میچ کے دوران گول کرتا ہے ہے اوروکٹ لے لیتا ہے تو اسے بآور کرائیں کہ یہ ٹیم کے بغیر اکیلا ایسا نہیں کرسکتا تھا۔
رویہ درست کرائیں: اگر آپ کا بچہ غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے بتائیں کہ تم غلط نہیں ہو بلکہ تمہارا رویہ اچھا نہیں تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے سے اس کے رویے پر بات کریں تو کہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ تم نہیں بلکہ تمہارے اندر تو ایک بہترین انسان چھپا ہوا ہے۔

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر کے سامنے احتجاج ، باجماعت نماز کی ادائیگی



ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مسلمان کمیونٹی کے غم وغصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے فوٹو: فائل
نیویارک: امریکا میں آئندہ صدارتی انتخاب کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے خلاف احتجاج  طول پکڑتا جارہا ہے اور سیکڑوں افراد نے ان کے دفتر کے سامنے باجماعت نماز ادا کی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نیویارک میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر دفتر کے باہرسیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’فاشزم نہیں چاہیے‘‘، فاشزم اور نفرت کے پرچارکرنے والا ٹرمپ نہیں چاہیے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مظاہرین  نے ڈونلڈ ٹرمپ کو فاشسٹ اورنسل پرست قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی، بعد ازاں احتجاج کے دوران مسلمانوں نے باجماعت نماز بھی ادا کی۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں لیکن وہ اپنی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہر اگل رہے ہیں جس کی وجہ سے عالمی سطح پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بھولنے کی عادت فائدہ مند بھی ہوتی ہے، طبی ماہرین

ویب ڈیسک  منگل 22 دسمبر 2015

بھول جانے کی عادت آج کی تیزرفتار دنیا میں نئے مہارت اور علم سیکھنے میں بہت مددگارثابت ہوسکتی ہے، ماہرین، فوٹو: فائل
گلاسگو: بھولنے کے مرض میں مبتلا افراد اس عادت کو ایک عذاب سے تعبیر کرتے ہیں لیکن سائنسدانوں کے مطابق غائب دماغی ایک نعمت بھی ہوسکتی ہے.
گلاسگو یونیورسٹی کے سائنسدان کے مطابق اگر آپ ایک کام کو بھول کر دوسرے کی جانب رجوع کرتے ہیں تو یہ آپ میں نئے کام کو سیکھنے کے صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ بھول جانا نئے کام سیکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سافٹ ویئر پروگرامر بڑی تیزی سے پرانے کوڈز اور ورژنز کو بھول کر نئے علوم پر مہارت حاصل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھول جانے کی عادت آج کی تیزرفتار دنیا میں نئے مہارت اور علم سیکھنے میں بہت مددگارثابت ہوسکتی ہے اور اسے ایک نارمل عمل سمجھنا چاہیے۔ اس کے لیے ماہرین کی ٹیم نے ایک تجربہ کیا جس میں مرد و خواتین کو پہلے چند الفاظ یاد کرنے کو دیئے گئے اور بعد میں انگلیاں اس انداز میں تھپتھپانے کو کہا جس طرح ہم کی بورڈ یا اے ٹی ایم مشینوں پر ٹائپ کرتے ہیں۔
ماہرین نے نوٹ کیا کہ الفاظ اور انگلیاں تھپتھپانے کے درمیان اگر کوئی تعلق تھا تو ان مرد وخواتین  نے دوسرے کام کو فوری طور پر یاد رکھا لیکن پہلے یاد کیے ہوئے الفاظ بھول گئے لیکن یہ اثر صرف اس وقت دیکھا گیا جب ایک کے بعد ایک کام سیکھا گیا جس سے معلوم ہوا کہ جب ہم نیا کام سیکھتے ہیں پرانی یادداشت دھندلا جاتی ہے جو ایک فطری عمل ہے۔
تحقیق کے دوسرے تجربے میں ان افراد کو چند گھنٹوں کے فرق سے دو کام سیکھنے کو دیئے گئے تو ان کو پہلا سبق یاد رہا اور اس سے وابستہ کوئی دوسرا کام آگے منتقل نہیں ہواجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ جلدی جلدی نئے کام سیکھتے ہیں وہ پرانا سبق بھول جاتے ہیں۔

امریکا میں میرج انشورنس کمپنی کا شادی پر 10 ہزار ڈالر دینے کا اعلان

ویب ڈیسک  منگل 22 دسمبر 2015

کمپنی کی اسکیم کے مطابق طلاق ہونے پر جوڑے کو یہ رقم سود سمیت ادا کرنا پڑے گی، فوٹو: فائل
سیاٹل: امریکا میں ہونے والی 40 سے 50 فیصد شادیاں جلد ہی ختم ہوجاتی ہیں اور اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے ایک امریکی میرج کمپنی نے طلاق پر سرمایہ کاری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی امریکی کمپنی کی جانب سے شادی کرنے والوں جوڑوں کو شادی کرنے کے لیے 10 ہزار ڈالر کی رقم دی جائے گی لیکن اگر شادی ختم ہوجائے تو اس جوڑے کو یہ رقم سود سمیت واپس کرنا ہوگی خواہ وہ طلاق شادی کے کتنے ہی عرصے بعد انجام پائے۔
امریکی کمپنی نے اس کے لیے ویب سائٹ پر رجسٹریشن کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے جس پر جوڑے کی تفصیلات الگورتھم سے چیک کی جائیں گی اور اس کے بعد  کمپنی بتائے گی کہ آپ 10 ہزار ڈالر کی اس رقم کے اہل ہیں یا نہیں۔ کمپنی کی اہلیت پر پورا اترنے پر جوڑے کو 10 ہزار ڈالر کی رقم دی جائے گی جو طلاق نہ ہونے کی صورت میں نا قابل واپسی ہوگی تاہم طلاق ہونے پر یہی رقم سود سمیت کمپنی کو ادا کرنا پڑے گی۔ کمپنی کی جانب سے یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ شادی شدہ جوڑے کے تعلقات جتنے مضبوط ہوں گے اور وہ طلاق میں جتنی دیر کریں گے سود اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔
کمپنی کے سی ای او کی جانب سے اس اسکیم کو شادی کا جوا خانہ قرار دیا ہے جب کہ ان کی کمپنی چاہتی ہے کہ تمام شادیاں کامیاب ہوں لیکن امریکی اعداد و شمار کچھ اور ثابت کرتے ہیں کہ وہاں شادیاں بہت کم چل پاتی ہیں اور اسی کے اوپر کمپنی کا انحصار ہے۔ لیکن کمپنی کے مطابق اپنی شادی اور تعلقات پر بھروسہ کرنے والے افراد اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ یہ کمپنی آئندہ سال سے اپنا کام شروع کرے گی لیکن لوگوں کی بڑی تعداد یہاں رجسٹر ہورہی ہے۔

’’ سائیکل کو نوبیل پرائزدو ‘‘ اٹلی میں آن لائن تحریک شروع ہوگئی



جینوبرتالی سائیکل پر سفر کرتے ہوئے مزاحمتی تحریک کے ذمہ داران تک پہنچتا تھا:فوٹو: فائل
نوبیل پیس پرائز عالمی سطح پر امن کے قیام اور فروغ کے لیے قابل قدر خدمات انجام دینے والے فرد یا ادارے کو دیا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والوں میں ملالہ یوسف زئی، امریکی صدر براک اوباما، یورپی یونین اور تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار (او پی سی ڈبلیو) شامل ہیں۔ نوبیل پرائزکی تاریخ میں کبھی یہ انعام کسی ’ شے ‘ کو نہیں دیا گیا، مگرحال ہی میں ایک آن لائن تحریک شروع کی گئی ہے جس کا مقصد سائیکل کو امن کا نوبیل انعام دلوانا ہے۔۔۔ جی ہاں سائیکل کو!
آن لائن تحریک اٹلی کے سرکاری ریڈیو سے وابستہ دو صداکاروں یا میزبانوں نے شروع کی ہے۔ معروف میزبان ماسیموکیری اور سارا زیمبوتی اپنے پروگرام ’’ کیٹرپلر‘‘ کے ذریعے سامعین سے درخواست اور ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کہ وہ اس آن لائن پٹیشن کی توثیق کریں جس میں نوبیل پرائز کمیٹی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 2016ء میں امن کا نوبیل انعام ’ سائیکل‘ کے نام کیا جائے۔ اپنی پٹیشن کی حمایت میں انھوں نے سائیکل کے کئی ’ کارنامے‘ گنوائے ہیں۔ وہ سائیکل کو ’ انسٹرومنٹ آف پیس‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائیکل کی وجہ سے کبھی جنگ نہیں ہوئی۔
لوگوں کو آن لائن پٹیشن کی توثیق پر راضی کرنے کے لیے میزبان کہتے ہیں کہ سائیکل انسانیت کے لیے دستیاب نقل و حمل کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق سائیکل پر ایک کلومیٹر سفر طے کرنے پر 0.16 یورو خرچ ہوتے ہیں جب کہ کار میں اتنا سفر کرنا کئی گنا مہنگا ہے۔ پٹیشن میں آلودگی کم کرنے میں سائیکل کے کردار کو کلیدی بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سائیکلوں اور دوسری گاڑیوں سے ہونے والے حادثات کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سائیکل برائے نام حادثات کا سبب بنتی ہے۔ ماسیمو اور سارا کا دعویٰ ہے کہ سائیکل چلانے سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں۔
سائیکل انسانی جانیں بچانے میں بھی کام آتی ہے۔ اس سلسلے میں ریڈیو پروگرام کے میزبانوں نے سائیکلنگ کے شہرت یافتہ اطالوی چیمپیئن جینوبرتالی کی مثال پیش کی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اطالوی مزاحمتی تحریک کو معلومات اور دستاویزات پہنچاتا تھا۔ اس پیغام رسانی کا مقصد یہودیوں کو نازی جرمنوں سے بچانا تھا۔ جینوبرتالی سائیکل پر سفر کرتے ہوئے مزاحمتی تحریک کے ذمہ داران تک پہنچتا تھا۔ راستے میں اگر اسے روکا جاتا تو وہ کہہ دیتا تھا کہ سائیکلنگ کی پریکٹس کررہا ہوں۔ قومی چیمپیئن ہونے کی وجہ سے اس کی یہ بات تسلیم کرلی جاتی تھی۔
ماسیموکیری اور سارا زیمبوتی کا کہنا ہے کہ مطلوبہ تعداد میں حمایت حاصل ہوجانے کے بعد وہ سائیکلوں پر سوار ہوکر ایک ریلی کی صورت میں نوبیل کمیٹی کے دفتر جاکر پٹیشن پیش کریں 

بھارت میں بھکاری نے بھیک نہ دینے والے شخص کو ٹرین کے سامنے پھینک کر خود بھی خودکشی کرلی



بھکاری نے اسٹیشن پر کھڑے شخص سے 100 روپے مانگے جو نہ ملنے پر وہ طیش میں آگیا، فوٹو:فائل
کانپور:  
بھارت میں ایک جنونی بھکاری بھیک نہ ملنے پرطیش میں آگیا اورریلوے اسٹیشن پر کھڑے شخص کو چلتی ٹرین کے سامنے دھکا دے کر خود بھی ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ایک شخص ٹرین کے انتظار میں کھڑا تھا کہ ایک بھکاری وہاں آیا اور اس سے  بھیک میں 100 روپے مانگے ،جس پر اسٹیشن پر کھڑے اس سریش کمار نامی شخص نے بھیک دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے وہاں سے چلے جانے کو کہا جس پربھکاری برہم ہوگیا اور اس شخص کو گالیاں دینا شروع کردیں۔
کچھ دیر بعد بھکاری نے سرویش کمار کو یکدم اپنے بازوؤں میں سختی سے  جکڑ لیا اور اسے بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے پٹریوں پر لے گیا اور اسے اچانک سامنے سے آنے والی تیز رفتار ٹرین کے سامنے چھلانگ لگادی جس کے باعث موقع پر ہی دونوں کی موت واقع ہوگئی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سریش نے اطراف میں کھڑے افراد کو مدد کے لیے آوازیں بھی دی تھیں تاہم کوئی بھی اس کی مدد کو نہ آیا اور چند ہی لمحوں میں  یہ واقعہ پیش آگیا۔ ریلوے پولیس نے پٹریوں سے دونوں لاشوں کے بکھرے اعضاء جمع کرکے پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھجوادیئے جب کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بھکاری  کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اور وہ چند روز سے ریلوے اسٹیشن پر مسافروں سے ہونے والی  چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں بھی لوث تھا۔

تھائی لینڈ میں مقابلہ جیتنے کے بعد ملکہ حسن خاکروب ماں کے قدموں میں جاگری

ویب ڈیسک  جمعرات 29 اکتوبر 2015
ماں کے قدموں میں ملکہ حسن بیٹی کو جھکتے دیکھ کر کئی لوگوں کے دل موم ہوگئے ، فوٹو: بشکریہ پیپلز ڈیلی آف چائنا
بنکاک: تھائی لینڈ میں مقابلہ حسن جیتنے کے بعد 17 سالہ حسینہ فوراً اپنی خاکروب ماں کے پاس پہنچی اور اطراف میں موجود کچرے کی پرواہ کیے بغیر ان کے قدموں میں جاگری۔
تھائی لینڈ میں “مس ان سینسرڈ نیوز 2015″ کا مقابلہ جیتنے والی کینیتھا مقابلہ جیتنے کے فوراً بعد ریشمی لباس، اونچی ہیل اور تاج سجائے جب اپنی والدہ کے پاس پہنچیں تو اس وقت بھی وہ کچرا چن رہی تھیں لیکن وہ اس بات کی پرواہ کیے بغیر ماں کے قدمے تلے جا بچھی۔ کینیتھا کی والدہ نے کچرہ ری سائیکل کرکے اپنی بیٹی کی پرورش کی اور ایک بلند مقام تک پہنچایا۔
ماں کے قدموں میں ملکہ حسن بیٹی کو جھکتے دیکھ کر کئی لوگوں کے دل موم ہوگئے اور وہ جذباتی ہوگئے جب کہ اس موقع پر کینیتھا نے کہا کہ وہ آج اس مقام پر اپنی ماں کی وجہ سے ہیں اور اب کوئی احساس کمتری نہیں ہے۔
کینیتھا کا بچپن شدید غربت اور محرومی میں گزرا وہ اس سے قبل مختلف کام کرکے گزارا کرتی جب کہ ان کی والدہ کچرا جمع کرنے اور ری سائیکل کرنے کا کام کرتی ہیں تاہم مقابلہ حسن کا علم ہوتے ہی کینیتھا نے اس میں حصہ لیا اور قسمت بھی ان پر مہربان ہوگئی جس پر انہیں “مس ان سینسرڈ نیوز 2015″ میں ملکہ حسن کا اعزاز ملا۔

ویب دریچوں میں ملے ہر مسئلے کا حل، پائیں ہر الجھن کی سلجھن



کھانے پکانے سے انٹرنیٹ تک۔۔۔تمام مسائل سے نمٹنے کے ٹوٹکے بتاتی سائٹس ۔ فوٹو : فائل
بچپن کی حسین یادیں عمر بھر انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔ انہی یادوں کی ایک خوب صورت کڑی نانیوں دادیوں کے وہ گھریلو ٹوٹکے ہوا کرتے ہیں جو چھوٹی موٹی بیماریوں سے لے کر تمام دیگر گھریلو امور میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
کبھی جو بچے کو سردی لگنے سے کھانسی نزلہ ہوجاتا تو ہدایت ملتی’’بہو! رات میں بچوں کو نیم گرم شہد چٹا دینا‘‘ اور اس ہدایت پر عمل کرے بچے کو بغیر دوا کے آرام آجاتا۔ کپڑوں پر کوئی داغ دھبہ لگ گیا۔ کبھی لیموں نمک ملا جاتا تو کبھی ٹیلکم پاؤڈر چھڑک کر رکھ دیا جاتا۔ بنا کسی ڈرائی کلین کے کپڑے بالکل صاف ہوجایا کرتے۔
واش بیسن میں پانی جمع ہوجائے تو گرم پانی سرکہ سوڈا ملا کر ڈال دیا جاتا۔ بھلا پلمبر کی کیا ضرورت۔ گلاب کے پودوں میں بچی ہوئی چائے کی پتی ڈال دی جاتی اور بڑے بڑے پھول کھلنے لگتے۔ غرض ہر مسئلے کا حل گھریلو ٹوٹکوں کی مدد سے چٹکی بجاتے حل ہوجاتا۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کی تیز رفتاری اور نفسانفسی نے ہمیں مسائل میں الجھادیا ہے۔
نہ اب بزرگوں کے مشفقانہ مشورے ساتھ ہیں نہ یادداشتوں میں وہ ٹوٹکے محفوظ ہیں۔ اسی لیے آج ہم کچھ ایسی ویب سائٹس کا انتخاب لے کر حاضر ہوئے ہیں جن میں موجود ٹوٹکے اور تجاویز آپ کے روزمرہ زندگی کے بیشتر مسائل کے حل میں آپ کی معاون ثابت ہوں گی۔ امید ہے ویب سائٹس کا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا۔ البتہ یہ ضرور مدنظر رکھیں کہ یہ ٹوٹکے ہیں کسی بیماری کا علاج یا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ لہٰذا افاقہ نہ ہونے یا مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں طبیب یا متعلقہ ماہر سے رابطہ ضروری ہے۔
٭ www.simplehouseholdtips.com
آسان گھریلو ٹوٹکوں اور چھوٹے چھوٹے مسائل کا حل اس ویب سائٹ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف کیٹگریز ہیں جن میں ان سے متعلقہ چھوٹے موٹے مسائل کا حل بیش کیا گیا ہے گھر کی صفائی سے لے کر اس کو منظم رکھنے کے طریقے، صحتِ عامہ کے مسائل، جلد کی دیکھ بھال، باغبانی اور دیگر روزمرہ زندگی میں مددگار ثابت ہونے والے بہت سے مشورے، تجاویز اور ٹوٹکے اس ویب سائٹ میں شامل ہیں۔ الغرض یہ ویب سائٹ ہر شخص کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگی۔
٭www.besthouseholdhintsandtips.com
اس ویب سائٹ کو دیکھتے ہوئے اور اس میں موجود ٹوٹکوں اور تجاویز کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے گویا کسی نانی یا دادی نے یہ سب تحریر کیا ہے کہ گھریلو امور سے لے کر بچوں کی پرورش اور گاڑی کی دیکھ بھال سے لے کر پالتو جانوروں کی تربیت تک ہر شعبۂ زندگی سے متعلق مشورے اس ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ گھریلو امور سے متعلق تجاویز اور ٹوٹکوں کے علاوہ غسل خانے، باورچی خانے اور کپڑوں کی دھلائی سے متعلق بھی علیحدہ سے خاصی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے گاڑی کی دیکھ بھال اور صفائی کے متعلق بھی ایسے آسان مشورے درج ہیں جو ڈرائیونگ کرنے والوں کے لیے خاصے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ننھے منے بچوں کی پرورش، ان کی حفاظت اور تربیت کے حوالے سے بھی کئی چھوٹی چھوٹی مفید باتیں درج ہیں، جو والدین خصوصاً ماؤں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوں گی۔ الغرض مجموعی طور پر یہ ویب سائٹ بے شمار مفید مشوروں اور تجاویز پر مبنی ہے۔ جو کسی بھی عام فرد کی روزمرہ زندگی میں معاون ثابت ہوں گی۔
٭www.tips.net
اس ویب سائٹ پر بے شمار معاون و مددگار اور کم خرچ میں مختلف مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔ اس ویب سائٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں زندگی کے مختلف مسائل کا بے حد تفصیلی حل موجود ہے، مثلاً آرائش حسن میں ملبوسات، کاسمیٹکس، خوشبو سے لے کر چہرے، آنکھوں، ناخن، پیر غرض بے شمار موضوعات پر بے حد تفصیل سے ہر مسئلے کا حل بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح مختلف جانوروں سے لے کر حشرات الارض تک کو گھر، باغیچے یا دفتر سے کس طرح بھگایا جائے یا ان سے پیدا ہونے والے مختلف مسائل کو کس طرح حل کیا جائے۔ یہ بھی بے حد تفصیل سے درج ہے۔ اسی طرح گاڑی کی خریداری، صفائی، موسم کی شدت سے پیدا ہونے والے مسائل، ڈرائیونگ اور دیکھ بھال سے لے کر اس کی مرمت اور بیچنے تک کے بے شمار موضوعات پر بھی تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔
عموماً خواتین کو کھانے پکانے کے دوران بہت سے مسائل پیش آتے ہیں۔ اسی لیے اس میں بیکنگ، مشروبات، آسان کھانوں، میٹھے سلاد سے لے کر برتن، صحت بخش غذائیں، باورچی خانے میں معاون ٹوٹکے اور معاملات کو منظم رکھنے کے ساتھ بے شمار دیگر موضوعات کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باغ بانی، صحت عامہ، پالتو جانوروں، گھر کی سجاوٹ، منظم رکھنے جیسے بے شمار موضوعات سے جڑے مختلف مسائل کو تفصیل کے ساتھ آسان ٹوٹکوں کی مدد سے بیان کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر عمل کے لیے آسان تجاویز موجود ہیں۔ اس کے ساتھ اس ویب سائٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے لیے بھی معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مائیکرو سافٹ ایکسل سے لے کر مائیکرو سافٹ ونڈوز اور مائیکرو سافٹ ورڈ کے متعلق بھی اس میں تفصیلاً درج ہے۔ چھوٹے چھوٹے مسائل جن میں الجھ کر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پریشان ہوجاتے ہیں ان کا حل بھی اس ویب سائٹ میں موجود ہے۔ الغرض یہ ویب سائٹ بچوں سے لے کر بڑوں تک سبھی کے لیے سود مند ثابت ہوگی۔
٭www.tipnut.com
اس ویب سائٹ میں بھی بے شمار ٹوٹکے، تجاویز اور مشوروں کے ساتھ بے شمار مسائل کا حل موجود ہے۔ گھریلو اور روزمرہ زندگی میں درپیش مختلف معاملات میں اس میں موجود مشورے خاصے معاون ثابت ہوں گے۔ کیوںکہ اس میں ہر کیٹیگری کو بے حد تفصیل سے ہر بات کو بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر گھریلو ٹوٹکوں کی کیٹیگری میں روزمرہ امور کے علاوہ باورچی خانے کے متعلق مختلف مسائل، مختلف گھریلو امور کو منظم رکھنے کے ساتھ ہی ساتھ گھر کے بجٹ اور کفایت شعاری کے بھی بہت سے طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ صفائی ستھرائی کے مختلف طریقوں کو جس کیٹیگری میں بیان کیا گیا ہے۔
اس میں مختلف گھریلو اشیا سے لے کر فرش، اوون غرض بے شمار صفائی کے طریقے بیان کیے گئے ہیں اسی کے ساتھ کپڑوں کی دھلائی اور باورچی خانے میں صفائی کی مد میں درپیش مختلف مسائل کا حل بھی پیش کیا گیا ہے۔ کھانے پکانے، بیکنگ کے متعلق بھی مختلف ٹوٹکے اور مسائل کا حل موجود ہے۔ اس کے علاوہ کھانے پکانے کی تراکیب بھی درج ہیں۔ باغ بانی کے شوقین افراد کے لیے بھی اندرون خانہ اور گھر کے باہر مختلف پودوں کو اگانے اور ان کے مختلف مسائل کا حل اس سائٹ پر موجود ہے۔ صحت عامہ کے مختلف مسائل کے ٹوٹکے موجود ہیں اور ساتھ حسن میں اضافے کے لیے مختلف ماسک بنانے کے طریقے بھی موجود ہیں۔
بچوں کے ناخن کترنے کی عادت کو کیسے ختم کیا جائے اور جلد، ناخن اور بالوں کی خوب صورتی میں کیسے اضافہ کیا جائے۔۔۔۔یہ تمام ٹوٹکے اس ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
اس ویب سائٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں سلائی، اُون سے مختلف ملبوسات بُننے اور کروشیا جیسے خواتین کے پسندیدہ مشاغل میں درپیش چھوٹے موٹے مسائل کا حل بھی اور بنانے کے طریقے بھی موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ناکارہ اشیا سے کارآمد اشیا بنانا، موم سے مختلف اشیا بنانا اور ایسی بے شمار دوسری اشیا کے طریقے اور راہ نما اصول درج ہیں، جن پر عمل کرکے گھر بیٹھے بہ آسانی یہ اشیاء بنائی جاسکتی ہیں۔ غرض دیواروں سے مارکر کے نشانات صاف کرنے ہوں یا وال پیپر کی دیکھ بھال ہو۔ پرانی کپڑوں کی الماری یا باورچی خانے کی کیبنٹ کو نیا انداز دینا ہو یا زیورات کو منظم رکھنا ہو یا کوئی اور مسئلہ ہو ہر مسئلے کا حل، گھریلو ٹوٹکے اور تجاویز اس ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ غرض یہ کہ یہ ویب سائٹ ہر شخص کے لیے بے حد سودمند ثابت ہوگی۔

امریکا کا گڑیا گھر جو اصل گھر سے بھی کئی گنا مہنگا ہے۔


نیویارک: دنیا کے کئی فنکاروں نے مل کر 1974 سے 1987 کے دوران بڑی محنت سے گڑیا گھر (ڈول ہاؤس) بنایا ہے جس پر 85 لاکھ برطانوی پاؤنڈ ( پاکستانی ایک ارب 32 کروڑ روپے) لاگت آئی ہے جب کہ 9 فٹ اونچے اس گھر کا وزن 360 کلوگرام ہے جس میں 29 کمرے بھی بنائے گئے ہیں۔

امریکا میں تیار کیے گئے اس گھر کو ایک شاعر ایلفرڈ ٹینیسن کی نظم ’’لیڈی آف شیلوٹ‘‘ سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا ہے جس میں ایک خیالی قلعے ’’اسٹولاٹ‘‘ کاتصور پیش کیا گیا تھا جب کہ اس کے نگراں ایلین ڈیہل تھے جو بالکل اصلی دکھائی دینے والی بہت چھوٹی چیزوں کو بنانے میں مہارت رکھتے ہیں
قلعہ نما گڑیا گھر کو اس وقت موجود جدید ترین ٹیکنالوجی اور بلند معیارات کےتحت بنایا گیا ہے، اس گھر کی ہوش رُبا قیمت کی وجہ اس کی ساخت ہے، اس کی چھت تانبے کی ہے اور دیواریں لکڑی کی ہیں جب کہ بنیادوں میں خاص پتھر ڈالا گیا ہے، اس کے بیرونی حصے تھری ڈی انداز میں دیکھے جاسکتے ہیں اور کچھ دیواریں ہٹا کر لوگوں کا گروہ 360 درجے پر اس کا نظارہ کرسکتا ہے۔
گھر کے اندر اعلیٰ ترین معیارکی 30 ہزار مختلف گھریلو اشیا رکھی گئی ہیں جو بہت چھوٹے ( منی ایچر) انداز میں بنائی گئی ہیں، ان میں سے کئی اشیا، خالص سونے، چاندی اور قیمتی پتھروں سے بنی ہوئی ہیں۔ اس گڑیا گھر کے تمام کمروں کو چھوٹی چھوٹی 10 ہزار اشیا سے سجایا گیا ہے جس میں چھوٹی میز، کرسیاں اور سجاوٹ کی چیزیں شامل ہیں۔
اسی طرح چھوٹی چھوٹی روشنیاں لگائی گئی ہیں،7 منزلہ قلعے میں سیڑھیاں بھی موجود ہیں اور چھت پر ایک چھوٹی دوربین نصب کی گئی ہے، اس کے علاوہ باورچی خانے میں ساری اشیا موجود ہیں اور اسلحہ خانے میں بھی ہر قسم کا اسلحہ رکھا ہے۔

کھانے کے کمرے میں چاندی کے برتن،گھر کی چوتھی منزل پر ہزاروں کتابیں ہیں جن کا ہر ورک محدب عدسے سے پڑھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح باتھ روم میں قابلِ استعمال ٹوائلٹ پیپر لگایا گیا ہے جب کہ اس گھر کو فی الحال نیویارک اور مین ہیٹن میں نمائش کےلیے رکھا گیا ہے۔

Unordered List

Sample Text

Blog Archive

Powered by Blogger.

Popular Posts

Recent Posts

Text Widget